اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ پر دستخط ہوچکے اس لیے دورہ منسوخ کیا، دورہ مؤخر ہونے کی وجہ سفارتکاری کی کامیابی ہے، معاہدہ مکمل طور پر فعال ہے، پاکستان معاہدے کے نفاذ اور آئندہ مراحل میں مرکزی کردار برقرار رکھے گا، اسلام آباد معاہدے کے بعد ماہرین کی سطح پر کام تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نافذ اور اس پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے، اعلیٰ ترین سطح کی سیاسی پیشرفت کے بعد رسمی دورے کی ضرورت کم ہوگئی، تکنیکی مذاکرات علیحدہ کیے جائیں گے جن میں مختلف معاملات زیر غور آئیں گے جو ایم او یو کا مجموعی طور پر حصہ ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نرمی، بحری سلامتی، جوہری امور پر تکنیکی مذاکرات ہوں گے، تصدیقی نظام، عمل درآمد کی ترتیب، علاقائی یقین دہانیوں پر بھی پیشرفت ہوگی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے پر دستخط کردیے، وزیراعظم شہباز شریف کے بھی بطور ثالث معاہدے پر دستخط موجود ہیں، پاکستان نے بطور ثالث معاہدے کی توثیق کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا، پیش رفت ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام آگے بڑھانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک محنت نہایت اہم رہی۔
وزیراعظم نے معاہدے پر صدر ٹرمپ ، سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر کو مبارک باد بھی دی۔
آپ کا تبصرہ